بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا
یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا
قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے
ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا
اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور
اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور
کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے
دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور
اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش
گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش
مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا
گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش
ہوتی ہے کامیاب اس دم تدبیر
تدبیر کی جب کرے اعانت تقدیر
ہو جائے خطا تو تیر بھی تُکا ہے
لگ جاے ہدف پہ جب تو تُکا بھی ہے تیر
اگلوں کا سا رہا نہ پچھلوں کا مزاج
پچھلوں نے بُھلا دیئے ہیں اگلوں کے رواج
مطلب دونوں کا ایک ہے یا نہیں ایک
کہیے کہ نہ کہیے آج کل کو کل آج
